164

مہنگائی یا اخلاقی انحطاط ….؟

Spread the love

(تجزیہ :…. ن ش ش)

شیخو جی نے خیالی صاحب کو مخاطب ہو کر کہا بھئی ہم مانتے ہیں وطن عزیز

میں یوں تو سال بھر مہنگائی ، گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کا بازار گرم

رہتا ہے لیکن عین ماہ رمضان المبارک میں اسلام کے قلعہ کے کلمہ گو باسی

بالخصوص اشیائے خورونوش کا بیوپاری طبقہ ہاتھ میں تسبیح اور سر پر ٹوپی

پہنے صارفین کی جیبوں پرڈاکہ ڈالنے اور اپنی تجوریوں کو بھرنے کیلئے کسی

شے کی پروا نہیں کرتا اور من مانی پر اترآتا ہے امسال تو ماضی کی نسبت اور

بھی برا حال ہے، کیونکہ ایک توکتپان خان کی حکومت ہے جسے ابھی تک یہ

معلوم نہیں ہو سکا انکا اصل ٹاسک کیا ہے کہاں سے مسائل کے حل کا آغاز کرنا

ہے اور کس طرح سے درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونا ہے اور دوسرا ہماری ہر

دل عزیز عوامی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی خیر خواہ افسر شاہی

نوخیز حکومت کو تگنی کا ناچ نچائے ہوئے ہے جس کی وجہ سے ہمارے کپتان

عمران خان صاحب آئے روز اہل وطن کو بھاش پر بھاش، تسلیوں ، دلاسوں اور

صبر کی تلقین کئے جا رہے ہیں،،،،،

خیالی صاحب جو ابھی تک بڑے صبر و تحمل سے شیخو جی کا بھاش سن رہے

تھے بول اٹھے شیخو جی اپنے مُدے پہ آئیں آخر کہنا کیا چاہتے ہیں یہ باتیں تو ہم

روز کرتے ہیں.؟

شیخو جی! سنی ان سنی کرتے ہوئے بولے ہم مانتے ہیں سوشل میڈیا کے مضر

اثرات بھی ہیں مگر آج کل اس پر شہریوں کو اچھے پیغامات دیئے جار ہے ہیں کہ

مہنگے پھلوں اور سبزیوں کو اگر سستا کرنا ہے تو دو چار دن اُن کی خریداری بند

کر دیں تاکہ جنہوں نے ان کا ذخیرہ کر رکھا ہے، اُن کی حالت غیر ہو جائے اور

وہ اُس ذخیرے کو باہر لانے پر مجبور ہو جائیں، مگر کون سنتا ہے فغاں درویش،

سب اسی خواہش میں مبتلا ہیں حکومت ان گراں فروشوں کو نکیل ڈالے، چیزیں

سستی کرائے، معاشیات کا ایک اصول ہے جب طلب بڑھتی اور رسد کم ہوتی ہے

تو اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔اس اصول کو آپ جتنا بھی کوشش کریں غلط ثابت

نہیں کر سکتے۔ کل مَیں تربوز لینے گیا تو ریڑھی والے نے ریٹ 40 روپے کلو

بتایا۔ مَیں نے سوچا کل تک تو 30روپے کلو تھا، یقینا یہ مہنگا بیچ رہا ہے،آگے گیا

تو وہاں بھی وہی ریٹ تھا اور لینے والوں کا رش لگا ہواتھا۔ اب آپ بتائیں جب

40روپے کلو خریدنے والے بے تحاشہ ہوں تو مجھے وہ 30روپے کلو کیسے مل

سکتا تھا؟ ہاں وہ سب 40 روپے کلو لینے سے انکار کر دیتے تو قیمت 30 روپے

سے بھی کم ہو سکتی تھی۔

خیالی صاحب بولے شیخو جی ہم نے بھی تو افطاری کو ایک ایسا موقع سمجھ لیا

ہے جس میں انواع و اقسام کے پکوڑے، سموسے، پھل، فروٹ چاٹ، مشروبات اور

لذت کام و دہن کے اسباب نہ ہوں تو افطاری کا مزہ نہیں آتا، حالانکہ آپ نے خود

بھی تجربہ کیا ہو گا روزہ کھلنے پر پانی یا شربت کے دو گلاس پینے کے بعد باقی

گنجائش صرف چکھنے کی رہ جاتی ہے،لیکن یہ ہماری بے صبری اور حد سے

بڑھی ہوئی خواہشات ہیں جو ہمیں دستر خوان کو بھرا اور سجا ہوا دیکھنا چاہتی

ہیں۔ ہر رمضان المبارک پر یہ ہا ہا کار ضرور مچتی ہے اشیائے خورو نوش

مہنگی ہو گئیں۔ سارا الزام پہلے حکومت اور پھر دکانداروں کو دیا جاتا ہے، ٹھیلے

والے اور خوانچہ فروش تک ہمارے غیظ وغضب کا شکار ہو جاتے ہیں،مگر خود

احتسابی کوئی نہیں کرتا۔ ہم جو صارف کہلاتے ہیں اور خریداری کرتے ہیں، کبھی

اپنی طاقت کو نہیں منواتے،کبھی اجتماعی طور پر یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ اگر

مصنوعی طور پر اشیاء مہنگی کی گئی ہیں تو اُن کی خریداری بند کر دیں۔ جس

طرح ہمارے ہاں عوام بکھرے ہوئے اور مافیاز متحد ہیں، اُسی طرح آڑھتی ہو یا

دکاندار،ٹھیلے والا ہو یا گدھا ریڑھی والا، ہر ایک نے تہیہ کر رکھا ہے عوام کو

لوٹنا ہے۔ حکومت اُن کے آگے اِس لئے بے بس نظر آتی ہے کہ ہزاروں کو

کنٹرول کیسے کرے،وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرتی ہے کہ رمضان بازارلگوا دیتی

ہے۔ پھر اُن سے خریداری کی شرائط بھی رکھ دیتی ہے۔یہ مصنوعی کام ہے، جو

کبھی عوام کو ریلیف نہیں دے سکا۔ جب تک خود عوام ایک صارف بن کر نہیں

سوچتے، متحد نہیں ہوتے،ہمارے ہاں مصنوعی مہنگائی کے جھکڑ چلتے رہیں

گے۔جب ہم خود لٹنے کے لئے تیار ہوں تو کوئی دوسرا ہمیں کیسے بچا سکتا ہے؟

شیخو جی نے بات کاٹتے ہوئے کہا بھلا کو خیالی صاحب آپ نے کو میرے دل کی

باتیں کہہ دیں آج کل آپ ہوٹلوں اور ریستورانوں کے بڑے ہورڈنگز اور اشتہارات

دیکھیں، 1200 سے1500روپے کے افطار ڈنر کی تشہیر ملے گی، 36ڈشوں سے

سجے بوفے کی نوید سنائی گئی ہو گی، شام کو آپ ہوٹلوں اور ریستورانوں کا چکر

لگائیں تو بیٹھنے کو جگہ نہیں ملے گی، اب کوئی بتائے جب لوگ صرف افطار

ڈنر پر ڈیڑھ ہزار روپیہ فی کس خرچ کرنے پر تیار ہوں تو وہاں کلو دو کلو پھل پر

بڑھے ہوئے سو یا پچاس روپے کون کم کرائے گا؟ دکاندار تو زیادہ قیمت دینے

والے کو ذہن میں رکھتا ہے، غریب آدمی تو اُس کی ترجیح ہی نہیں ہوتا۔ یہ معاشرہ

طبقاتی ہو چکا ہے، اس میں اپنے سے نچلے طبقے کے بارے میں سوچنے یا اُس

کے مسائل کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے کی عادت ہی نہیں۔

شیخو جی سانس لینے کیلئے رکے تو ساتھ بیٹھے بشیر بھائی نے لقمہ دیا کہ روزہ

تو صبرو قناعت سمیت یہ درس بھی دیتا ہے کہ اپنے ہمسائے کا خیال رکھو،جو

روزہ کھولنے کی استطاعت نہیں رکھتے،اُن کے لئے افطاری کا اہتمام کرو، مگر

اس کی بجائے سارا زور اس پر صرف ہوتا ہے کہ وقت افطار تاحدِ نظر اشیاء کی

قطار نظر آئے۔روزہ تو ایک کھجور سے بھی افطار کیا جا سکتا ہے اور شاید اس

ملک کے کروڑوں لوگ ایسا کرتے بھی ہیں،انہیں تو کھجور بھی میسر نہیں ہوتی،

پانی سے افطاری کر کے روٹی کھا لیتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ پہلے ڈٹ کر افطاری

کرتے ہیں،پھر کچھ وقت دے کر دو چار ڈشوں سے مزین کھانا کھاتے ہیں۔یہ آج

کی بات تھوڑی ہے،مَیں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں رمضان

کے آتے ہی ہر شے کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ کیا نفسیات ہے جس نے کئی

دہائیوں سے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ہم یہ مثالیں تو دیتے ہیں کہ یورپ

میں ماہِ رمضان کے آتے ہی اشیائے خورو نوش کی قیمتیں آدھی کر دی جاتی ہیں،

لیکن کبھی اس پہلو پر غور نہیں کرتے کہ ہمارے ہاں قیمتیں ڈبل کیوں کر دی جاتی

ہیں؟ کیا وہاں خوفِ خدا بہت زیادہ ہے یا پھر وہ مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

کے لئے ایسا کرتے ہیں؟ خوفِ خدا تو ہم میں زیادہ ہونا چاہئے کہ ہم مسلمان

کہلاتے ہیں اور رمضان المبارک کے احترام کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔

شیخو جی نے بشیربھائی کے توقف پر بحث کا منقطع سلسلہ جوڑتے ہوئے کہا

اصل معاملہ یہ ہے بشیر بھائی وہاں ذخیرہ اندوزی نہیں کی جاتی۔ سپلائی کو جان

بوجھ کر کم نہیں کرتے، جو مال نصف قیمت پر بیچتے ہیں، وہ زیادہ فروخت ہوتا

ہے تو منافع اتنا ہی مل جاتا ہے، جتنا اشیاء کو غائب کر کے قیمتیں بڑھانے کے

بعد حاصل کیا جاتا ہے۔ منڈیوں میں بیٹھے آڑھتیوں نے بڑے بڑے ایئر کنڈیشنڈ

گودام بنا لئے ہیں، جہاں پھلوں اور سبزیوں کو سٹور کر لیتے ہیں اور اپنی مرضی

سے تھوڑا تھوڑا کر کے نکالتے ہیں، تاکہ مہنگے داموں فروخت کئے جا سکیں،

اس سے کتنے کروڑ افراد خریداری سے محروم ہو جاتے ہیں،اس کی انہیں پروا

ہے اور نہ علم۔ اگر وہ اشیاء کو اُن کی قوتِ خرید کے مطابق فروخت کریں تو اُن

کی روزانہ کی آمدن کہیں زیادہ ہو سکتی ہے،لیکن وہ ایسا نہیں کرتے، اُن کی

کمزور قوتِ ایمانی انہیں ماہِ رمضان المبارک میں بھی نیکی کی طرف راغب نہیں

ہونے دیتی۔ اب ایک علاج تو یہ ہے کہ انتظامیہ ذخیرہ اندوزوں کے گوداموں پر

چھاپے مارے اور مال برآمد کر کے مارکیٹ میں لائے،لیکن اس سے چند روز تو

سپلائی بہتر ہو گی، پھر شاید قلت پیدا ہو جائے اور لوگوں کو سونے کے بھائو بھی

پھل دستیاب نہ ہوں،کیونکہ ان کی رسد رُک جائے گی۔منڈیوں کا ایک نظام ہے،جس

کے تحت بہت سے مافیاز کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔ مارکیٹ کمیٹیوں کا نظام

بُری طرح ناکام ہو چکا ہے،کیونکہ وہ سب آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کی آلہ ٔ

کار بن جاتی ہیں۔ کھیت سے منڈی تک پہنچتے پہنچتے پھلوں اور سبزیوں کے

ریٹ چار گنا بڑھ جاتے ہیں،اس کے بعد جب یہی اشیاء عام خریدار تک پہنچتی ہیں

تو ایک روپے کی شے دس روپے میں ملتی ہے۔

خیالی صاحب نے اس موقع پر سوال کر دیا شیخو جی کیا حکومت ابھی تک کوئی

ایسا میکنزم بھی نہیں بنا سکی کہ کئی مراحل سے گزرنے والی شے تک صارف

کی آسان رسائی ممکن ہوسکے۔؟

شیخو جی! خیالی صاحب غور کریں تو رمضان المبارک میں مصنوعی مہنگائی کا

معاملہ اخلاقی انحطاط اور کمزور قوتِ ایمانی ظاہر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس

مہینے کو نیکیاں بڑھانے کا ماہِ مقدس قرار دیا ہے،لیکن ہمارا کاروباری طبقہ اسے

آمدنی بڑھانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ روزہ داروں کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنی

تجوریاں بھرنے والے اس بابرکت مہینے کی حرمت اور تقاضوں کو بھول جاتے

ہیں۔ کاش یہ روایت ختم ہو اور ہمارے ہاں بھی ماہِ صیام کے آتے ہی ناجائز منافع

خوری بند ہو جائے، اشیاء کو عوام کی قوتِ خرید کے مطابق فراہم کرنے کا

رجحان پروان چڑھے۔ تاکہ اسلام کے قلعہ کے باسی حقیقی معنوں میں اسلام کے

قلعہ کے باسی نظر آئیں اوروطن عزیز کو ریاست مدینہ جیسا بنانے کا دیکھا گیا

خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے اس کیلئے حکومت ہی نہیں عوام کی سطح پر بھی

خلوص دل سے سعی کرنے کی ضرورت ہے اور سچ پوچتھے ہوں خیالی صاحب

تو وہ یہ ہے کہ اخلاقی انحطاط کے خاتمے تک کچھ بھی نہیں بدل سکتا البتہ ہم

ایک دوسرے کو مورد الزام قرار دینے سمیت بھاش ، بحث مباحثے کر کے وقت

گزاری ضرور کرسکتے ہیں جو کئے جا رہے ہیں . شیخو جی نے ایک لمبی سانس

لی اور خاموش ہو گئے