64

ایجنٹ 909

Spread the love

(تحریر:….ڈاکٹر آئی ایس )

وہ لندن روڈ پر چلتا ہوا نارتھ چیم سے مارڈن اسٹیشن کی طرف جا رہا تھا،رات کے

اڑھائی بج رہے تھے، فروری کا مہینہ تھا اور ہوا اتنی تیزبندے کا وزن کم ہو تو

اسے اڑا لے جائے، وہ 10 گھنٹے ڈیوٹی دینے کے بعد انتہائی تھک چکا تھا اور

اسے تقریباً 4 میل کا پیدل سفر طے کر کے بس سٹاپ پر پہنچنا تھا جہاں اسے گھر

جانے کیلئے مطلوبہ بس ملنی تھی، تیز ہوا کی وجہ سے اسے تھکن کا بالکل

احساس نہیں ہو رہا تھا ، ہوا کا رخ اسی سمت کو تھا جس جانب وہ سفر کر رہا تھا

اور وہ اسے تقریباً اڑاتے ہوئے لے جا رہی تھی،بعض اوقات تو اس کیلئے اتنی تیز

ہوا میں خود کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ بالآخر وہ گورا قبرستان کے قریب پہنچ

گیا جہاں سے وہ روزانہ گزرتا تھا، انتہائی تیز ہوا اور اس سے پیدا ہونے والی

خوفناک آوازیں،رات کی سیاہی اور پھر قبرستان، ماحول کو انتہائی وحشت زدہ بنا

رہے تھے ، وہ بہت بہادر تھا ، اس دن اس سے غلطی ہوئی کہ اس نے قبرستان

کے ساتھ ملحقہ فٹ پاتھ پر چلنا ہی مناسب سمجھا حالانکہ ہر روز وہ قبرستان

شروع ہوتے ہی سڑک پر ہو لیتا تھا لیکن آج اس نے قبرستان کے قریب سے گزرنا

مناسب سمجھا، وہ تیز چلنے لگا،

اسے پہلی مرتبہ خوف اپنے اندر محسوس ہوا ایسے کوئی شے اس کا تعاقب کر

رہی ہو، اس نے ودر کرنا شروع کر دیا اور وہ بھی اونچی آواز کیساتھ ، اچانک

اس کو جھٹکا لگا اور اس کی آنکھیں بوجھل ہونا شروع ہو گئیں، دل گھٹنا شروع ہو

گیا، اس نے ہمت کر کے اپنی جیب سے اورنج جوس نکالا اور اس کا ایک سپ لیا

اسے کچھ تسکین حاصل ہوئی ،مارڈن اسٹیشن زیادہ دور نہیں تھا اور صرف 5 منٹ

کی مسافت پر ہی بس سٹاپ تھا۔ منزل پر پہنچ کر اس نے کچھ مسافروں کو وہاں

کھڑے دیکھا، ان میں کچھ لڑکیاں تھیں اور ان کے بوائے فرینڈز، سب نشہ میں

چور تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ چپکے ہوئے تھے، موسم اچانک بہت سرد

ہوگیا تھا، تمام مسافرسنٹرل لندن کو جانے والی بس 118 کا انتظار کر رہے تھے،

اسے معلوم تھا کوئی آسیب اسے گھیر چکا تھا اور اسے بے بس کرنا چاہتا تھا، وہ

بھی بہت ڈھیٹ تھا لیکن کب تک،اس آسیبی شے نے اسے بالکل شل کر کر دیا اور

اس سے پہلے کہ وہ بے ہوش ہو جاتا اس نے اپنا موبائل فون نکالا، وہ 999

ایمرجنسی پر ڈائل کرنے ہی والا تھا کہ بس اس کے عین سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔

وہ سب سے پہلے بس پر سوار ہوا ، موبائل فون بائیں ہاتھ میں لیا، دائیں ہاتھ سے

جیب سے اوسٹر کارڈ نکال کر ٹکٹ پوائنٹ پر چسپاں کر دیا، گرین لائٹ نے اوکے

کا اشارہ دیا اور وہ ساتھ ہی معذوروں کیلئے نصب سب سے آگے والی کرسی پر

ڈھیر ہو گیا۔

ایک جوان افریقی دوشیزہ نے اس کا حال دریافت کیا کہ وہ ٹھیک تو ہے اس نے

اسے کوئی جواب نہ دیا ،اس کی آنکھیں کھلی تھیں، وہ بے حس ہو چکا تھا، لڑکی

نے آگے بڑھ کر اس کی شرٹ کا بالائی بٹن کھولا اور اسے ہلانے جلانے لگی،وہ

اس کی آوازسن سکتا تھا لیکن اس کا جسم اور دماغ جواب دے چکا تھا جیسے اس

پر کوئی وزن ڈال دیا گیا ہو، افریقی خاتون نے فوراً بس کا بالائی شیشہ کھول دیا،

ہوا کا تیز جھونکا اس کے منہ پر لگا تو اس نے زور سے سانس لیا، وہ اس آسیبی

شے کے شکنجے سے باہر آ چکا تھا، اس نے افریقی دوشیزہ کا شکریہ ادا کیا اور

جیب سے اورنج جوس نکال کر سارا پی گیا، اسے دل پر دبائو محسوس ہوا اور

سینے میں درد ہونے لگا،

بس موڑ کاٹتے ہوئے لندن روڈ پر واقع قادیانیوں کی سب سے بڑی اور مرکزی

عبادت گاہ کے پاس سے گزری، یہ وہ عمارت تھی جسے گورے مسلمانوں کی

مسجد سمجھ کر تعمیر کی اجازت نہیں دے رہے تھے اوراس کی تعمیر کے وقت

کئی بارخنزیر کا گوشت اس کے احاطے میں پھینک کر رات کے اندھیرے میں

فرارہوجاتے تھے۔ آہستہ آہستہ احمدی جماعت کے مقامی افراد نے گھر گھر جا

کر گوروں کو یقین دلانا شروع کر دیا وہ نئی جہت کے مسلمان ہیں، جہاد کو غلط

سمجھتے ہیں، جہاد کی مخالفت پرہی پاکستان میں انہیں شدید نقصان پہنچایا جاتا ہے

اور ساری دنیا کے مسلمان انہیں غیر مسلم قرار دیتے ہیں ،آخر کار ان کی کاوشیں

رنگ لے آئیں، قادیانیوں کی عبادت گاہ بطور ہیڈ کوارٹر لندن میں مارڈن روڈ پر بن

گئی، قادیانیوں نے آس پاس کے متعدد گھروں کو خرید کر اپنی طاقت کو مزید بڑھا

لیا، قادیانیوں کی عبادت گاہ گزرچکی تھی، اس دوران وہ افریقی خاتون وقفے وقفے

سے اسے دیکھ رہی تھی وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں، 25 منٹ کی مسافت کے بعد اس

کا سٹاپ آ چکا تھا، اس نے بس کو روکنے کیلئے’سٹاپ ‘بٹن دبایا، بس رک گئی ،

وہ باہر آگیا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا،اسے سینے پر دبائو محسوس ہو رہا

تھا،وہ خوفزدہ تھا کہیں یہ ہارٹ اٹیک کی نشانی نہ ہو،اگر ایسا ہو گیا تواس کا مشن

ادھورا رہ جائے گا،اسی سوچ میں اس کا گھر آگیا، سیڑھیاں چڑھ کر وہ سیدھا باتھ

روم میں داخل ہوا، باتھ ٹب میں گرم پانی کا نل کھول کر اس میں نمک ڈالا اور اس

میں دراز ہوگیا۔ آدھا گھنٹہ پانی میں رہنے کے بعد اسے کافی سکون ملا،اس نے

آئندہ گورا قبرستان کے پاس سے گزرنے سے توبہ کرلی،

باتھ روم سے باہر آتے ہی اس نے سکنک اورتمباکو کو رولنگ پیپر پر مکس کر

کے رول کیا اور آگ سلگائی، بیڑی سے دھواں اٹھنا شروع ہوا تو اسے سکون ملنا

شروع ہو گیا، اسے کل صبح دس بجے پھر اٹھنا تھا۔ آج اسے مساج سنٹر کی مالکن

یزالی سے ملنا تھا،ایک خاص اپوائنٹ منٹ تھی، صبح 9 بجے ہی لینڈ لائن فون

بجنا شروع ہو گیا ،وہ جانتا تھا یہ یزالی کا فون ہو گا،اس نے بند آنکھوں کے ساتھ

رسیورکان سے لگایا اور چست آواز میں ہیلو کہا تاکہ دوسری جانب موجود بندے

کو یہ احساس نہ ہوسکے وہ سو رہا ہے،ایک خاتون کی آواز سنائی دی’’ہیلو مسٹر،

آپ کیسے ہیں‘‘؟ وہ سوچ میں پڑ گیا یہ خاتون کون ہو سکتی ہیں؟اس نے انتہائی

نرم لہجے میں پوچھا،’’آپ کو مجھ سے کیا کام ہے‘‘ اس نے بتایا اسے یزالی نے

رابطہ کرنے کا کہا تھا تا کہ یہ کنفرم کر لیا جائے کہ آپ آج شام سروسزدینے

مساج سنٹر آ رہے ہیں یا نہیں؟ ،،،،،،،،،،،، جاری ،،،،،،،،،،،،

قارئین ! ڈاکٹر آئی ایس کورڈ ورڈ 909 کے تحت یورپ کے متعدد ممالک میں

خاص مشن پر فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں، ’’جرنل ٹیلی نیٹ ورک کی انتہائی

کوششوں کے بعد انہوں نے اپنی ڈیوٹی کے دوران خود کو اور اپنے ارد گرد پیش

آنے والے ایسے واقعات و مشاہدات کو تحریر میں لانے کی حامی بھری کیونکہ یہ

واقعات، حالات و مشاہدات حقیقت پر مبنی اور انتہائی نازک امور پر ہیں، جنہیں

پڑھ کر یقینا جہاں معلومات میں اضافہ ہوگا وہیں زندگی کے اتار چڑھائو سمیت

معاشرتی، سیاسی و معاشی مسائل سے جان کاری کے ساتھ ساتھ ان کے حل کیلئے

کی گئی سعی و جستجو کے بارے میں بھی علم ہوگا کیونکہ ڈاکٹر آئی ایس نے وہ

سب کچھ بیان کیا ہے جو اس سے پہلے آپ نے نہ پڑھا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں