39

پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال میں پرچی کائونٹر،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف بھی شامل

Spread the love

لاہور (ہیلتھ رپورٹر) پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے

میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن ریفارمز (ایم ٹی آئی)ایکٹ کیخلاف ہڑتال چوتھے روز

بھی جاری رہی ،تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس

سٹاف غیر حاضر رہا تاہم ایمرجنسی، آ ئی سی ٹی اور آپریشن تھیٹر معمول کے

مطابق چلتے رہے،ڈاکٹرز کی ہڑتال کے نتیجے میں مریضوں کو شدید پریشانی کا

سامنا کرنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں ینگ

ڈاکٹرز (ایم ٹی آئی)ایکٹ کیخلاف چوتھے روز بھی سراپا احتجاج رہے جس کے

باعث انہوں نے او پی ڈی میں کام بند رکھا ۔ لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف

کارڈیالوجی، سروسز، چلڈرن اور شیخ زید سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ینگ

ڈاکٹرز نے کام بند رکھا ۔ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال میں نرسز ایسوسی ایشن اور پیرا

میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن بھی شامل ہے ۔ فیصل آباد اور سرگودھا سمیت کئی

شہروں کے سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں ڈاکٹرز نے کام بند رکھا جبکہ

سرکاری ہسپتالوں میں پرچی کائونٹر،نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی احتجاج میں

شامل ہوگیا۔ینگ ڈاکٹرز نے دھمکی دی ہے کہ جب تک ہسپتالوں کی نجکاری کا

عمل نہیں رکتا احتجاج جاری رکھیں گے۔راولپنڈی میں بھی تینوں بڑے ہسپتالوں

میں بھی احتجاج جاری رہا،ہولی فیملی،ڈی ایچ کیواوربینظیربھٹو ہسپتا ل کی اوپی

ڈیزبند رہیں ،نرسیں اور پیرامیڈیکل سٹاف بھی اوپی ڈی ہڑتال میں شامل ہیں جس

کے باعث پرچی کائونٹر بھی خالی پڑے رہے جبکہ ملتان کے نشتر ہسپتال کے

آوٹ ڈور وارڈز بھی بند رہے ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ہڑتال کے

سبب او پی ڈی میں علاج و معالجے کی غرض سے آنیوالے مریضوں کو شدید

مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور مریض نجی ہسپتالوں کے دھکے کھانے پر مجبور

ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے ایم ٹی آئی ایکٹ کیخلاف ایک ماہ سے پر امن مظاہرے

جاری تھے لیکن حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی جس پر مجبورا او پی ڈی بند کرنا

پڑی۔حکومت کی جانب سے مجوزہ بل کو واپس لینے تک ہڑتال جاری رہے گی۔

وزیر صحت مسئلے کو سلجھانے کی بجائے الجھا رہی ہیں معاملات کو فوری طور

پر حل کیا جائے۔خیال رہے ایم ٹی آئی ایکٹ کو پہلے خیبر پختونخوا میں نافذ کیا گیا

تھا جسے اب پنجاب میں بھی متعارف کرایا جارہا ہے۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ

ریفارمز ایکٹ (ایم ٹی آئی)کے تحت ٹیچنگ ہسپتالوں کو چلانے کیلئے پرائیویٹ

لوگوں پر مشتمل بورڈ آف گورنرز کے نام پر انتظامی بورڈ تشکیل دیا جائیگا۔

دوسری جانب پشاور میں ینگ نرسز ایسوسی ایشن نے بھی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں

اپنے مطا لبات کے حق میں احتجاج کیا ۔ ینگ نرسز کی جانب سے تنخواہوں میں

اضافے، سروس اسٹرکچر اور ترقی کیلئے واضح پالیسی بنانیکا مطالبہ کیا جار ہا

ہے، مظاہرین نے ریجنل ہیلتھ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کو مسترد کرنیکا

اعلان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں