95

کشیدگی میں کمی ہوئی ہے مگر جنگ کا خطرہ موجود،ترجمان پاک فوج

Spread the love

راولپنڈی(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف
غفور نے کہا ہے پا ک بھا رت کشیدگی میں کمی ہو ئی ہے مگر جنگ کا خطرہ موجود ہے،

پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دیا اور بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ
کے قریب تھے، مسئلہ کشمیر حل نہ ہونا خطے کے امن میں رکاوٹ ہے،

میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ روز امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا بھارتی پائلٹ کی
رہائی پاکستان کی طرف سے امن کا پیغام تھا، دیکھتے ہیں اب بھارت ہمارے امن کے پیغام کا کیا جواب
دیتا ہے، اب یہ بھارت پر ہے کہ وہ امن کے قدم کو سمجھے اور کشیدگی میں کمی کی طرف بڑھے یا
پھر اپنے اسی ایجنڈے پر قائم رہے،

ہم سمجھتے ہیں اب گیند بھارت کے کورٹ میں ہے، اگر وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کشیدگی میں اضافہ کیا جائے
تو صورتحال واپس اسی جگہ پر آجائے گی، الزامات سے بہتر ہے بھارت اپنی اصلاح کے اقدامات کرے،

بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور جارحیت کی جس کا پاکستان نے جواب دیا،
اس وقت لائن آف کنٹرول پر فوجی دو بدو ہیں، فوجیں کئی عشروں سے تعینات ہیں مگر بھارتی جارحیت اور
ہمارے جواب کے بعد دونوں جانب سے حفاظتی اقدامات لیے گئے ہیں جو جنگی منصوبہ بندی کاحصہ ہوتے
ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے بالاکوٹ میں بھارتی آپریشن کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا انفرا اسٹرکچر کو چھوڑیں
وہاں تو ایک لاش ملی نہ اینٹ،ان کے دعوے جھوٹے ہیں، یقین ہے بعد میں وہ بھی یہ اعلان کر دیں گے وہاں
کوئی ہلاکت نہیں ہوئی

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا اگر بھارتی مظالم جاری رہے تو کشمیریوں کا ردعمل لازمی ہے، اب بھارت پر
منحصر ہے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے وہ کیا کرتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ
کی کمیشن کی رپورٹ بھی موجود ہے،

دنیا کو دیکھنا ہوگا کشمیری نوجوانوں کو کس چیز نے تشدد کی طرف دھکیلا ہے، بھارت الزام تراشی کررہا ہے
بھارتی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں، اس کے باجود وزیراعظم
نے تحقیقات کی پیشکش کی۔ بھارت کی جانب سے ڈوزیئر ملا، اس پر تحقیقات جاری ہیں۔ ڈوزیئر متعلقہ وزارت
دیکھ رہی ہے۔ کوئی ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں