57

نیب کے دعوے بڑے بڑے ، شواہد دینے میں لیت ولعل ،ایسا نہیں چلنے دینگے،عدالت عالیہ راولپنڈی بینچ

Spread the love

راولپنڈی(مانیٹرنگ)عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس طارق عبا سی اور

جسٹس شاہد محمود عبا سی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق صدر آ صف زرداری

کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں ریکارڈ پیش نہ کرنے پرقومی احتساب بیورو

(نیب)کے پراسیکیوٹر کی سرزنش کرتے ہوئے ر یمارکس دیئے کہ ایک طرف

نیب دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس ملزمان کیخلاف تمام شواہد اور دستاویزی ثبوت

موجود ہیںاور دوسری جانب عدا لت میں ایسی کوئی چیز پیش نہیں کی جاتی جس

سے مقدمات کی سماعت بلا تعطل جاری رہ سکے، عدالت نے کیس کی آئندہ تاریخ

نیب کی جانب سے ریکارڈ کی فراہمی سے مشروط کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر

دی اور قرار دیاجب ریکارڈ پیش ہو گا تو درخواست پر سما عت ہو سکے گی ،بدھ

کے روز سماعت کے موقع پرنیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب مظفر عبا سی

عدالت میں پیش ہوئے جہاں پرعدالت نے ان سے کیس کی با بت ریکارڈ طلب کیا

تاہم نیب مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کر سکا،واضح رہے نیب راولپنڈی نے سابق صدر

آصف زرداری کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں بریت کیخلاف درخواست دائر کی

تھی نیب کی جانب سے دائر درخواست میں اثاثہ جات ریفرنس ری اوپن کرانے کی

استدعا بھی کی گئی تھی ، ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب مظفر عبا سی نے کہاسابق صدر

آصف زرداری کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس مضبوط ہے اور اس میں مزید شواہد

بھی مل چکے ہیں جس پر عدالت نے قرار دیا آخر اس مضبوط ریفرنس کے شواہد

کدھر ہیں اور عدالت میں کیوں پیش نہیں کئے جا سکے، نیب نے درخواست میں

احتساب عدالت کا ریفر نس میں بریت کا فیصلہ ختم کرنے کی اپیل کر رکھی ہے،

یاد رہے جولائی 2017میں راولپنڈی کی احتسا ب عدالت نے تکنیکی بنیادوں پر

سابق صدر آصف علی زرداری کو غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس کیس میں بری

کردیا تھا جبکہ عدالت عالیہ نے راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر1سے پہلے ہی

ریکارڈ طلب کر رکھا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں