431

دیار غیر میں ایک اور پاکستانی نوجوان کاانوکھا کارنامہ ،جانیئے اورفخرکیجئے

Spread the love

(تحریر:۔۔۔ابو رجاءحیدر)
دیار غیر میں روزی روٹی کیلئے گئے پاکستانی نوجوان سید نجم حسن نے ایسا کارنامہ کر دیکھا کہ اہل وطن اش اش کر اٹھے، کینیڈا میں مقیم سید نجم حسن جہاں بیرون ملک وطن عزیز پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کیلئے کوشاں ہیں وہیں وہ ”لوو ود ہیومینٹی“ کے نام سے ایک ایسوسی ایشن کے بانی بھی ہیں جس کا مقصد نئے امیگرینٹس کیلئے معلوماتی سیمینار کا انعقاد، بےروزگار افراد کیلئے روزگار کے مواقع اورمستحق ہم وطنوں سمیت دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی مالی ، اخلاقی و جانی امدادکرنا شامل ہیں ، ایسوسی ایشن کے قیام کے بعد سید نجم حسن نے چھ سال کی انتھک محنت کے بعدایک ایک کر کے کتابیں جمع کیں اور ایک ملٹی کلچرل منی لائبریری بنانے میں کامیابی حاصل کی اس لائبریری کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا کہ دنیا کو وطن عزیزپاکستان کے کلچر اور مثبت پہلو ﺅںسے روشناس کرایا جا سکے ۔ اس لائبریری سے ہر کوئی فری آف کوسٹ کتابیں لے سکتا ہے اور مستفید ہوسکتا ہے اور اس بات کا اعتراف کئے بغیر کینیڈین وز یراعظم جسٹن ٹروڈیو بھی نہ رہ سکے، انہوں نے اپنے سیکرٹریٹ سے جاری کئے گئے لیٹر میں نجم حسن اور ان کی ایسوسی ایشن کی خدمات کا اعتراف کیا جبکہ کینیڈا کے چھ مئیرز کی طرف سے بھی لوو وید ہیومینٹی کو ایوارڈز دیئے گئے۔ اب سید نجم حسن ورلڈ گنیز بک میں بھی اپنی لائبریری کا نام درج کروانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سید نجم حسن وطن عزیز کے شہر کراچی کے رہائشی ہیں اور یونیورسٹی آف کراچی سے ہی بیچلرز اورماسٹرز کرنے کے بعد فارغ تحصیل ہیں ۔
2000 تا 2009 تک سعودیہ میں ایک ملٹی نیشنل ادارے میں کام کیا،وہاں سے 2009 میں کینیڈا آ گئے اور گلوبل مارکیٹ کےساتھ یو نیو ر سٹی آف فریڈرکٹن سے ایم بی اے کیاجبکہ آج کل اسی کمپنی کےساتھ کام کررہے ہیں ۔گزشتہ 9 سال سے کینیڈا میں کمیونٹی سروس کےلئے بھی انہو ں نے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ پچھلے سال کچھ دوستوں کےساتھ مل کر انہوں نے ایسو سی ایشن ”لوو ود ہیومینٹی “نامی ویلفیئر تنظیم بنائی جس کے تحت البرٹا میں بے گھروں ، بےروز گاروں ، معمر افراد کےلئے،مذکورہ ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے کئی ایک فلاحی پروگرام کر چکے ہیں ۔
انہوں نے مذکورہ نان پرافٹ ایسوسی ایشن ایک سال پہلے چند دوستوں کےساتھ اپنی رضاکارانہ خدمات کینیڈین سوسائٹی کو پیش کرنے کےلئے بنا ئی جس کے تحت وہ اب تک کمیونٹی کی فلاح وبہبود کے کئی کام سرانجام دے چکے ہیں جن میںنیو امیگرنٹس اور بے روز گاروں کےلئے معلوماتی سیمینارز،معمر افراد کےساتھ گپ شپ ، بے گھر لوگوں کی امداداور سب سے اہم ترین پروگرام ”فرسٹ ملٹی کلچرل منی لائبریری “کا قیام شامل ہیں ۔
سید نجم حسن کے مطابق لائبریری بنانے کا خیال انہیں رواں سال اسلئے آیا کہ یوں تو یہاں ہر چھوٹے بڑے شہر میں پبلک لائبریریز کا ایک بہت جدید اور موثر نظام موجود ہے لیکن مسئلہ یہ ہے لوگوں کو وہاں تک جانا پڑ تا ہے، جبکہ کینیڈا میں نئے آنےوالوں کے پاس گاڑی نہیں ہوتی جس سے وہ ان لائبریریزتک نہ جا سکنے کے باعث ان سے مستفید نہیں ہو سکتے ۔پھر وقت بھی چاہیے ہوتا ہے اسی طرح معمر افرادکو لائبریری تک جانے میں درپیش مسائل نے مجھے اس بات پر اکسایا کیوں نہ ایسی لائبریری قائم کی جائے جس میں مذکورہ تمام مسائل کا حل موجود ہو ، سو اپنے اس آئیڈیا پر کام شروع کر دیا ، لائبریری اور کتابوں کو لوگوں کے دروازے یا گلی محلے تک لایا جائے اس طرح نہ صرف لوگ کتابوں سے استفادہ کریں بلکہ ان کا آپس میں بھی رابطہ، جان پہچان ہواور ایک صحتمند معاشرہ تشکیل پائے۔ اس پروگرام کو میونسپل گورنمنٹ اور صوبائی گورنمنٹ نے بہت سراہاہے۔
باہمت اور محب وطن پاکستانی جوان کی اس ضمن میں یوٹیوب ، فیس بک اور ڈان نیوز پاکستان کو دیئے گئے انٹرویوز دیکھئے
یو ٹیوب
فیس بک
ڈان نیوزپاکستان
سید نجم کی دیار غیر میں انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے جاری سرگرمیوں کی تصویری جھلکیاں
،،،،،،

Syed Hassan, Khaleel Bhatti and a number of others were out to greet guests and neighbours at their pop-up multicultural library July 7 in Chestermere.
،،
Syed Najam of the not-for-profit organization Love with Humanity is proud of be the driving cause behind ChestermereÕs first Multi-cultural Free Public Library.
Photo by Emily Rogers

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

10 تبصرے “دیار غیر میں ایک اور پاکستانی نوجوان کاانوکھا کارنامہ ،جانیئے اورفخرکیجئے

  1. I like what you guys are up too. This kind of clever work and exposure! Keep up the awesome works guys I’ve incorporated you guys to my personal blogroll. I’m curious to find out what blog system you’re working with? I’m experiencing some minor security issues with my latest blog and I would like to find something more risk-free. Do you have any solutions? I couldn’t refrain from commenting. Well written! http://starbucks.com

  2. I’ve been browsing online more than three hours today, yet I never found any interesting article like yours. It is pretty worth enough for me. Personally, if all web owners and bloggers made good content as you did, the web will be much more useful than ever before. I simply couldn’t go away your site prior to suggesting that I actually loved the standard information an individual supply to your visitors? Is going to be again frequently to inspect new posts Everyone loves it when individuals come together and share opinions. Great site, continue the good work! http://Aoc.com/

  3. My brother recommended I would possibly like this blog. He used to be totally right. This post actually made my day. You cann’t imagine simply how so much time I had spent for this information! Thanks!

  4. always i used to read smaller articles which as well clear their motive, and that is also happening with this piece of writing which I am reading at this place.

  5. Hello everyone, it’s my first visit at this site, and piece of writing is genuinely fruitful in support of me, keep up posting these posts.

  6. It is perfect time to make some plans for the long run and it is time to be happy. I have learn this post and if I may I wish to recommend you some fascinating things or suggestions. Maybe you could write next articles referring to this article. I wish to learn even more things about it! You made some decent points there. I looked on the net to find out more about the issue and found most people will go along with your views on this website. Hey there would you mind stating which blog platform you’re working with? I’m planning to start my own blog in the near future but I’m having a tough time making a decision between BlogEngine/Wordpress/B2evolution and Drupal. The reason I ask is because your design seems different then most blogs and I’m looking for something completely unique. P.S My apologies for getting off-topic but I had to ask!

اپنا تبصرہ بھیجیں