71

چیف الیکشن کمشنر اورارکان کا تقرر،حکومت اوراپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) حکومت اوراپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر اور دوارکان کی

تقرری پرڈیڈلاک برقرار ، پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر نہ ہو سکا ، سپیکر قومی

اسمبلی کے چیمبر میں جاری مشاورت بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی ، اپوزیشن اور حکومت کی جانب

سے مزید تجاویز پیش کر دی گئیں ، مشاورت میں شریک ارکان نے تجایز پر اپنی پارٹی سے رائے

لینے کا فیصلہ کیا جس پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پیر کی شام 6 بجے دوبارہ طلب کر لیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تقرری کے حوالے سے جمعہ کو

پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تھا ، تاہم ایک مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس نہ ہو سکا ، جبکہ

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہی مشاورتی اجلاس

جاری رہا ، حکومت کی طرف سے وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق شیری مزاری، وفاقی وزیر

برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے اجلاس

میں شرکت کی جبکہ مسلم لیگ(ن) کی طرف سے احسن اقبال، سینیٹر مشاہد اللہ خان، مرتضیٰ جاوید

عباسی، نثار چیمہ شریک ہوئے ، پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے راجہ پرویز اشرف اور سینیٹر

سکندر میندھرو جبکہ جے یو آئی(ف) کی جانب سے شاہدہ اختر علی نے اجلاس میں شرکت کی ،

ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تقرری کے حوالے سے حکومت اور

اپوزیشن میں ڈیڈ پاک برقرار رہا اور مشاورت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی ، اپوزیشن اور حکومت

کی جانب سے مزید تجاویزپیش کی گئیں جن پر تمام جماعتوں کے ارکان اپنی پارٹی سے مشارت

کریں گے ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پیر کی شام 6 بجے دوبارا بلایا

جائے گا۔دریں اثنا متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنونیئر اکرم خان درانی نے کہاہے کہ

ہمارااعتماد گزشتہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے نہیں ہورہا ،نیک نام لوگوں کو الیکشن کمیشن میں لانا

چاہتے ہیں ، حکومت کسی بھی بات پر اتفاق رائے پیدا نہیں پا رہی،کوشش ہے الیکشن کمیشن کے

ممبران اورچیف کا معاملہ پارلیمنٹ حل کرے۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت

کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہاکہ گزشتہ اجلاس میں جو فیصلہ ہوا تھا اس حوالے سے حکومت

سے بات چیت بھی چل رہی ہے،الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری کے حوالے سے حکومت سے

مذاکرات جاری ہیں،ہمارا اعتماد گزشتہ الیکشن کی وجہ سے نہیں رہا،ہم نیک نام لوگوں کو الیکشن

کمیشن میں لانا چاہتے ہیں،۔ احسن اقبال نے کہاکہ تین سال پہلے پتا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر ریٹائر

ہونے والے ہیں ،وزیراعظم اور اپوزیشن کی مشاورت پہلے ہی ہوجانی چاہیے تھی،الیکشن کمیشن کے

دو ممبران کی تقرری کے حوالے سے اپنے ہی صدر سے غیر آئینی کام کروایا۔ انہوںنے کہاکہ آرمی

چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

ڈیڈ لاک برقرار

Leave a Reply