190

ٹرمپ نہ چاہتے ہوئے بھی شٹ ڈائون ختم کرنے پر مجبور

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے رواں مالی سال کے باقی ماندہ بجٹ کے بقایا تمام سات بلوں پر دستخط کردیئے ۔

قبل ازیں کانگریس کے دونوں ایوانوں نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے مشترکہ مفاہمتی بلوں پر اتفاق رائے کرکے منظو ر کرلیا تھا جن میں جنوبی سرحد پر صدر ٹرمپ کے مطالبے کے مطابق دیوار تعمیر کرنے کیلئے پانچ ارب سترڈالر کا فنڈ شامل نہیں تھا۔

صدر ٹرمپ نے 35دن کے ریکارڈ جزوی شٹ ڈائون کے بعد دوبارہ شٹ ڈائون سے بچنے کیلئے بلوں کے اس پیکیج پر دستخط کئے ہیں، جس پر وہ خوش نہیں ،

وائٹ ہائوس ذرائع کا کہنا ہے صدر ٹرمپ ہنگامی حالت کا اعلان کرکے اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے آٹھ ارب ڈا لر دیوار کیلئے حاصل کرلیں گے اس دوران ڈیموکرئیک سپیکر ننیسی پلوسی نے اعلان کیا ہے وہ صدر ٹرمپ کے ہنگامی حالت کے نفاذ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گی،

تاہم ان سات بلوں میں ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کاجوبجٹ شامل ہے اس کے تحت دیوار کیلئے فنڈ فراہم کر نے کی بجائے اس سرحد پر 55میل لمبی باڑ لگانے کیلئے ایک ارب 37کروڑ ڈالر کا فنڈ منظور کیا گیا ہے۔

یکم اکتوبر 2018ء سے پہلے ہی رواں مالی سال کے بجٹ کے پانچ بل منظور کرلئے گئے تھے جن میں توانائی اور پانی، قانون سازی کی برانچ، تعمیر اور ویٹرن، افیئرز، دفاع ، لیبر، صحت ہیومن سروسز، تعلیم کے محکمے شامل تھے ۔

اس دوران باقی سات بلوں کا پیکیج میکیسکو بارڈر پر دیوار کی تعمیر کیلئے صدر ٹرمپ کے مطا لبے پر کانگریس کی رضا مندی نہ ہونے کے سبب تعطل کا شکار رہا۔

صرف عبوری قرارداروں کے ذریعے ان محکموں کو چلانے کیلئے عبوری فنڈ مختصر مدت کیلئے ملتا رہا اور مدت ختم ہونے کی صورت میں ان محکموں کا شٹ ڈائون ہوتا رہا ہے۔

ایک عبوری قرارداد کی مہلت جمعہ کی رات کو ختم ہوگئی اگر ٹرمپ بلوں پر دستخط نہ کرتے تو شٹ ڈائون برقرار رہتا اور اس کا الزام ان پر ہی آ جاتا ۔

باقی ماندہ سات بل منظور کرکے کانگریس نے موجودہ مالی سال کا بجٹ مکمل کرلیا ہے۔ جس پر صدر ٹر مپ نے ناراضگی کے باوجود دستخط کردیئے ہیں۔

ان سات بلوں کے ذریعے جن محکموں کابجٹ منظور ہوا ہے ان میں ہوم لینڈ سکیورٹی ، ز ر ا عت، دیہی ترقی، فوڈ اینڈ ، ڈرگ ایڈمنسٹریشن، تجارت ، انصاف، سائنس ، خزانہ، عدلیہ، داخلہ امور، ماحولیات ، ٹرانسپورٹ ،ہائوسنگ، امور خارجہ ، یوایس ایڈ اور بیرونی امداد کے شعبے شامل ہیں۔

Leave a Reply