76

سنگین غداری کیس ،پرویز مشرف کی سزا کالعدم ،خصوصی عدالت کا قیام ،کارروائی غیر آئینی قرار

Spread the love

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی ،مسٹر جسٹس محمدامیر بھٹی اور مسٹرجسٹس مسعود

جہانگیر پر مشتمل فل بنچ نے سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل ،اس کی کارروائی اورجنرل (ر)

پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کاحکم غیر آئینی قراردے کرکالعدم کردیا،فاضل بنچ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین

غداری کا استغاثہ دائرکرنے کاطریقہ کاربھی غیر قانونی قراردے دیا۔ فاضل بنچ نے یہ حکم جنرل (ر) پرویز مشرف کی درخواست

منظور کرتے ہوئے جاری کیا،فاضل بنچ نے خصوصی عدالت سے متعلق کریمینل لاء ترمیمی ایکٹ مجریہ1976 ء کے سیکشن 9 کوبھی

آئین سے متصادم قراردیتے ہوئے کالعدم کردیا،اس سیکشن کے تحت خصوصی عدالت کو ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کا اختیار

دیاگیاتھا،فاضل بنچ نے قراردیاہے کہ ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل شفاف عدالتی کارروائی کی آئینی ضمانت کے منافی ہے ،فاضل بنچ

نے قراردیا کہ آئین کے آرٹیکل6میں ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جاسکتا،18ویںآئینی ترمیم کے تحت آئین معطل کرنے کے اقدام کو

بھی آرٹیکل6کا حصہ بنایا گیا،یہ ترمیم 2010ء میں آئی جبکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ ان کے 2007ء کے اقدام کی بنا پر

قائم کیا گیا،عدالت نے درخواست گزار کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل اورجنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف

استغاثہ کی کابینہ سے منظور ی نہیں لی گئی ،عدالت نے قراردیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے وقت آئینی و قانونی تقاضے پورے نہیں

کئے گئے،اس کیس کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکلاء خواجہ طارق رحیم اور اظہر صدیق کے علاوہ عدالتی معاون بیرسٹر

علی ظفر اور وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے ایک ہی موقف اختیار کیا،گزشتہ روز ایڈیشنل اٹارنی جنرل

نے پرویز مشرف کے خلاف کیس کے حوالہ سے یہ تک کہہ دیا کہ کوئی خواہش تھی اور اس پر عمل درآمد کردیاگیاجس پرجسٹس مسعود

جہانگیر نے ریمارکس دیئے کہ پھر ہم سمجھیں کہ جو پرویز مشرف کا موقف ہے وہی حکومت کا موقف ہے ،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل

نے کہا کہ سر میں تو ریکارڈ کے مطابق بتارہاہوں،پرویز مشرف کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل سمیت

تمام اقدامات وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر کئے گئے ہے،آئین کی معطلی اور ایمرجنسی کا نفاذ صدر مملکت کا صوابدیدی اختیار ہے،

پرویز مشرف نے قانونی طور پر اپنے اس حق کو استعمال کیا، اگر آئین کی معطلی کو جرم مان بھی لیا جائے تو اسے 18ویںآئینی ترمیم کے

ذریعے اپریل 2010 ء میںسامنے لایا گیا،ایمرجنسی 2007ء میں نافذ کی گئی، آرٹیکل 12 کے تحت ماضی میں کیے گئے جرم کا اطلاق اس

پر نہیں ہوتا، ان تمام اقدامات کو کالعدم کیا جائے،پرویز مشرف کی طرف سے ملزم کی غیر حاضری میں اس کا ٹرائل جاری رکھنے کے

خصوصی عدالت کے اختیار کو کالعدم کرنے کی استدعا بھی کی گئی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پرویز مشرف کی درخواست میں اٹھائے

گئے قانونی نکات کی حمایت کی اور موقف اختیار کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف کیس بنانے کا معاملہ کبھی کابینہ میںایجنڈے کے طور پر

پیش نہیں ہوا،یہ سچ ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف کیس سننے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی، 18

ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ نیا نوٹیفیکیشن جاری کرتی یا پھر پرانے نوٹیفیکیشن کی توثیق کرتی،کیوں کہ18

ویں ترمیم کے ذریعے ہی آرٹیکل 6 میں معطلی، اعانت اور معطل رکھنے کے الفاظ شامل کئے گئے، ایمرجنسی میں بنیادی حقوق معطل

کئے جا سکتے ہیں، جس کا اختیار آئین دیتاہے ،دوران سماعت مختلف مواقع پر فاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ آئین توڑنا تو اسے کہتے

ہیں جب ضیاء الحق نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے؟ 12 صفحوں کی کتاب ہے، اس کتاب کو کسی بھی وقت پھاڑ کر پھینک دوں،فاضل بنچ نے

قراردیا کہ ایمرجنسی لائف سیونگ ڈرگ کی حیثیت رکھتی ہے، ایمرجنسی تو آئین میں شامل ہے، آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی لگائی جا

سکتی ہے،اگر ایسی صورتحال ہو جائے کہ حکومت ایمرجنسی لگا دے تو کیا اس حکومت کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ چلے گا؟

ایمرجنسی لگائی جائے گی تو پھر عدالت اس کا تعین کرے گی کہ کیا ایمرجنسی آئین کے مطابق لگی یا نہیں، یہ سلسلہ چل گیاتو جس کو جو

چیز مناسب لگے گی وہ وہی کرے گا، خصوصی عدالت کے جج ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے کام نہیں کررہے تھے ،وہ ٹرائل جج کے

طور پر کام کررہے تھے ،اس لئے ہائی کورٹ کو خصوصی عدالت کی کارروائی کا جائزہ لینے کااختیارحاصل ہے ،جمہوری نظام میں

کبھی اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ اختیارکو ختم نہیں کیاگیا ،آپ نیب مقدمات میں ضمانت کو لے لیں ،نیب مقدمات ناقابل ضمانت ہیں لیکن اعلیٰ

عدالتوں نے اس قانون کی تشریح کرکے ضمانت کا تصور دیا، یہ نکتہ آصف علی زرداری کے والد کے کیس میں طے کیا گیا، کسی ایک

صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہو جائے تو کیا کیا جائے گا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے کہا وہ صوبہ وفاق کو لکھ کر بھیج سکتا

ہے کہ ایمرجنسی غلط لگائی گئی، جس پرجسٹس سیدمظاہر علی اکبر نقوی نے کہا یہ تو آپ نے وہی بات کی جب کسی ایس یچ او کیخلاف

شکایت آئے تو ایس پی درخواست کو اسی ایس ایچ او کے پاس انکوائری کیلئے بھیج دیتا ہے،

Leave a Reply