mqm pti flags 58

ایم کیو ایم دھمکی، پی ٹی آئی حکومت ہل کر رہ گئی، آج بڑی بیٹھک

Spread the love

کراچی، اسلام آباد (جتن آن لائن سٹاف رپورٹرز) ایم کیو ایم دھمکی

خالد مقبول صدیقی کا وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ جس کے باعث کراچی کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ کراچی میں پارٹی رہنماؤ ں کیساتھ پریس کانفرنس میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا ہم نے حکومت سے وعدہ کیا تھا حکومت بنانے میں آپ کی مدد کریں گے، جو پورا کیا لیکن ہمارے ایک نقطے پر بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔ میرے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا کہ میں حکومت میں بیٹھا رہوں- میرا وزارت میں بیٹھنا بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے لہذا اب وفاقی کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے کیونکہ میرے وزارت میں بیٹھنے سے اہل کراچی کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ مزید پڑھیں

میرے اعلان کا پیپلز پارٹی کی آفر سے کوئی لینا دینا نہیں،خالد مقبول

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزارتوں کی پیشکش سے متعلق سوال پر کنوینر ایم کیو ایم نے کہا گزشتہ دنوں کہیں اور سے بھی وزراتوں کی بات ہوئی تھی لیکن ہم حکومت سے اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ پی ٹی آئی کیساتھ دو معاہدے ہوئے تھے، ایک بنی گالہ اور دوسرا بہادرآباد میں جہانگیر ترین کی موجودگی میں ہوا۔ وفاقی حکومت کا ہر مشکل مرحلے میں ساتھ دیا لیکن سندھ کے شہری علاقوں سے ناانصافی کی جا رہی ہے، ان ساری چیزوں کا پیپلز پارٹی کی آفر سے کوئی لینا دینا نہیں۔

حکومت نے فروغ نسیم کو خود منتخب کیا

حکومت سے اتحاد ختم ہونے سے متعلق سوال پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے وزارت قانون و انصاف نہیں مانگی تھی، ہم نے جو دو نام وزارتوں کے لیے دیئے تھے ان میں فروغ نسیم کا نام شامل نہیں تھا، حکومت کو ایک ایسے وکیل کی ضرورت تھی جو ان کے مقدمات اچھی طرح سے لڑ سکے اس لیے انہوں نے فروغ نسیم کو خود منتخب کیا۔

گورنرسندھ کا متحدہ سے رابطہ، اسد عمر کی قیادت میں حکومتی ٹیم کی ملاقات آج

دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے کہا ایم کیوایم کے مطالبات جائز ہیں، حکومت تمام وعدے وفا کرے گی، ایم کیو ایم پاکستان حکومت کی بہترین اور بااعتماد اتحادی ہے، کراچی ملک کا معاشی حب ہے، اسے کسی صورت نظر اندازنہیں کرسکتے- اہل کراچی نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے، اسے ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ وزیراعظم نے اہم رہنماؤں اسد عمر، جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کو ایم کیو ایم کو منانے کیلئے ہدایات بھی جاری کر دیں، اسد عمر کی قیادت میں وفد ایم کیو ایم کی قیادت سے آج ملاقات کریگا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں بھی ایم کیو ایم سے بات چیت کرنے کا کہا- جس کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں گلے شکوے دور کرنے کی یقین دہانی کرائی-

ایم کیو ایم ہماری اتحادی، معاہدے پر عملدرآمد جلد ہوگا، عمران اسماعیل

گورنر سندھ نے کہا ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے، اس کیساتھ کئے گئے تحریری معاہدے پر مکمل عملدر آمد کیا جائے گا، بات چیت کے ذریعے مسائل حل اور جلد کراچی کو فنڈ جاری کئے جائیں گے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کی جانب سے پہلے رابطہ نہ کرنے کا گلہ کیا گیا- بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کا کہنا تھا خودکشی کرنیوالے بیروزگار میر حسن کے بچوں کی رہائش کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، وزیر اعظم کا احساس پروگرام ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ہی ہے-

ایم کیو ایم پاکستان کو الگ نہیں ہونے دینگے ، فیصل واوڈا کا عزم

وفاقی وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی کی جانب سے وزارت چھوڑنے کے اعلان کے بعد وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے وزیر قانون فروغ نسیم سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق فیصل واوڈا نے کہا ایم کیو ایم پاکستان وزیراعظم عمران خان کی سوچ کی عکاسی کے عین مطابق سیاسی جماعت ہے۔ وزیراعظم اور ہم ایم کیو ایم سمیت اتحادیوں کو بھائی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو وفاقی حکومت سے الگ نہیں ہونے دیں گے۔ فروغ نسیم کو باہمی مشاورت سے تمام مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومت اور ایم کیو ایم کا باہمی تعاون جاری رہے گا۔

پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان میں بیک ڈور رابطے بھی پھر فعال

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے مابین بیک ڈور رابطے پھر فعال ہونے کی بھی خبریں ہیں، اور جلد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقات کا بھی امکان ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے سیاسی جماعتوں میں مشاورت ہوتی ہے اسلئے ہم نے آفر دی تھی، آفر کی وجہ ایم کیو ایم کے شکوے تھے۔ ایم کیو ایم کہتی تھی وفاق انکی نہیں سنتا۔ بلاول بھٹو کی آفر ابھی بھی بر قرار ہے۔ بلاول بھٹو ایم کیو ایم کے دفتر جائیں گے یا نہیں مجھے علم نہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا سندھ حکومت نے وفاق کو صوبہ میں کام کرنے سے کبھی نہیں روکا۔ عمران خان کراچی کے بھی وزیراعظم ہیں۔ سندھ حکومت کی کارکردگی سامنے ہے۔ 162 ارب کی رقم وفاق نے دینی تھی جو ابھی تک نہیں دی گئی۔ امید ہے کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے وفاق خطیر رقم دیگا۔

خالد مقبول صدیقی کو فیصلہ بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، سعید غنی

وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خالد مقبول صدیقی کے وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دینے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا انہیں یہ فیصلہ بہت پہلے کرلینا چاہئے تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے نہ صرف عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے اتحادیوں سے کئے گئے وعدوں کو بھی بھلا دیا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے کہنے پر وفاقی کابینہ کو نہیں چھوڑا بلکہ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ یہ فیصلہ بھی خود متحدہ قومی موومنٹ نے ہی کرنا ہے کہ وہ سندھ حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری یہ بات باربار کہتے رہے ہیں وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ وفاقی حکومت نے کراچی میں ترقیاتی کاموں کیلئے مختص 162 ارب روپے میں سے ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے لوگوں کو مہنگائی اور بیروزگاری کے سواکچھ نہیں دیا۔
ایم کیو ایم دھمکی

Leave a Reply