ukrine plane crash in iran 62

یوکرائن کا طیارہ نادانستہ نشانہ بنا، ایران کا اعترافِ غلطی، برملا معذرت

Spread the love

تہران،کیف،اسلام آباد (جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک، سٹاف رپورٹر) ایران اعتراف برملا معذرت

ایران نے یوکرائن کے مسافر طیارے کے حادثے کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے طیارہ غلطی سے حملے کا نشانہ بنا جس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔ یوکرائن نے اپنے مسافر بردار طیارے کی تباہی پر ایران سے ذمہ داروں کو سزا دینے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کا اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مزید پڑھیں

طیارے کے بلیک باکس تک یوکرائن کو رسائی بھی دیدی، ایران

تفصیلات کے مطابق ایران کے حکام کا کہنا ہے طیارے کو ملٹری کی جانب سے مار گرانا انسانی غلطی تھی، طیارہ حساس ملٹری اسٹرائیک کے پاس سے گزرتے ہوئے نشا نہ بنا۔ ایران نے اپنی افواج کی جانب سے میزائل داغ کر نادانستہ طور پرتباہ کئے جانیوالے طیارے کے بلیک باکس تک یوکرائن کو رسائی بھی دیدی- جسکی یوکرائن کے حکام نے تصدیق کر دی ہے۔

غلطی زعم طاقت میں مبتلا امریکی مہم جوئی کے دوران پیش آئی، جواد ظریف

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا مسلح افواج کی تحقیقات کے مطابق واقعہ انسانی غلطی و طاقت کے زعم میں مبتلا امریکی مہم جوئی کے دوران پیش آیا- واقعے پر افسوس اور متاثرہ خاندانوں سے معذرت چاہتے ہیں۔

حادثے کا پتہ چلا تو خواہش ہوئی مرجاؤں، ایرانی کمانڈر امیرعلی حاجی

ایرانی کمانڈر امیر علی حاجی نے کہا ایرانی پاسداران انقلاب حادثے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، ایئر ڈیفنس آپریٹر نے طیارے کو کروز میزائل سمجھا، حادثے کا پتہ چلا تو خواہش ہوئی مرجاؤں، ایسا حادثہ دیکھنے سے پہلے مرنے کو ترجیح دیتا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کی مطابق ایرانی مسلح افواج کا کہنا ہے انہوں نے غلطی سے یوکرائینی طیارے کو جنگی جہاز سمجھ لیا تھا-

ناقابل معافی واقعے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائیگی، صدر روحانی

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے ایران کو اس المناک غلطی پر گہرا افسوس ہے، ناقابل معافی واقعے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائیگی- میرے احساسات اس واقعے پر متاثرہ خاندانوں کیساتھ ہیں- ایران اس افسوسناک سانحہ کی وجوہات اور اسکے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے تحقیقات جاری رکھے گا۔

ایران کی جانب سے مکمل تعاون کیا جارہا ہے، یوکرائنی وزیر خارجہ

کیف میں یوکرائن کے وزیر خارجہ ویدیم پرسٹاکیو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ایران نے یوکرائن کی 50 رکنی ٹیم کو بلیک باکس اور جائے حادثہ تک رسائی دیدی ہے، ہم جہاز کے ٹکڑوں کیساتھ لاشوں کا بھی کیمیکل تجزیہ کررہے ہیں۔ ایران کی جانب سے مکمل تعاون کیا جارہا ہے، ہم کسی نتیجے تک پہنچنا چاہتے ہیں جبکہ ہم کسی بھی امکان کو رد بھی نہیں کررہے۔

ذمہ داروں کو سزاء، متاثرین کو معاوضہ، معافی مانگنا لازمی، یوکرائن

یوکرائنی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے مطالبہ کیا کہ یوکرائنی طیارے کی تباہی پر ایران ذمہ داروں کو سزا، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے سمیت حادثے پر معافی بھی مانگے۔ توقع کرتے ہیں طیارے کی باقیات جلدوا پس کر دی جائیں گی اور پر امید ہیں واقع کی انکوائری بغیر کسی ارادی تاخیر کے کی جائیگی۔

واقعہ کے ذمہ داران کا احتساب، متاثرین کو انصاف دیا جائے، کینیڈین وزیراعظم

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی ذمہ داران کے احتساب، متاثرین کے لواحقین وعزیزوں کیلئے شفاف انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ ایک قومی سانحہ ہے اور اس پر کینیڈا کے شہری ایک ساتھ سوگ منا رہے ہیں۔

ایران کو اس واقع سے سبق سیکھنا چاہیے، روس

روسی پارلیمنٹ کی امور خارجہ کمیٹی کا کہنا ہے ایران کو اس واقع سے سبق سیکھنا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی کونسٹنٹین کوسا چیف کا کہنا تھا اگر بلیک باکس کی ریکارڈنگ اور تحقیقات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایرانی فوج نے طیارہ جان بوجھ کر مار گرایا ہے تو یہ معاملہ ختم ہو جانا چاہیے۔ امید ہے ایران کیلئے یہ واقعہ سبق آموز ہو گا اور اسکے تمام فریقین کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔

ہمیں کشیدگی کو ختم کرنا ہوگا۔ فرانس

فرانس کی وزیر دفاع فلورنس پارلی انٹر ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا حال ہی میں جو واقعات ہم نے دیکھے ہیں ہمیں انکے ڈرامائی تسلسل سے سبق سیکھنا چاہیے کہ ہمیں کشیدگی کو ختم کرنا ہوگا۔

ایران کا اعتراف غلطی تشویش میں کمی کی امید ، پاکستان

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ایران کی جانب سے حادثاتی واقعے کے اعتراف کے بعد تشویش میں کمی آنے کی امید ہے۔ یوکرائن کے مسافر بردارطیارے کو نا دانستہ طور پر میزائل سے مار گرانے کے ایران کے اعترافی بیان پر ردعمل میں گزشتہ روز وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا یہ خطہ مزید کسی کشیدگی یا لڑائی کا متحمل نہیں ہو سکتا- پاکستان کشیدگی کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہیگا۔ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایران روا نہ ہو رہے ہیں جہاں ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پائی جانیوالی کشیدگی میں کمی لانے کی ضرورت ہے، صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ایک امید کی کرن دکھائی دی ہے۔

واضح رہے یوکرائینی ایئرلائنز کے تباہ ہونیوالے طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈ ین،11 یوکرائینی، 10 سویڈش، چار افغان، تین جرمن اور تین برطانوی شہری سوار تھے۔

ایران اعتراف برملا معذرت

Leave a Reply