Health Worker Drop The Polio Vaccine in the mouth of kid, 39

انسداد پولیو پروگرام، 99 فیصد بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مکمل

Spread the love

اسلام آباد، لاہور(جتن آن لائن ہیلتھ نیوز)

وزارت صحت سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے پاکستان کے انسداد پولیو پروگرام 99 فیصد بچوں کو ویکسین پلانے میں کامیاب
ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ’ انسداد پولیو مہم اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر رہی ہے اور اس کی کامیابی پولیو وائرس کی لہر کا رخ موڑے گی جس کے نتیجے میں سال 2019 کے دوران 111 بچے متاثر ہوئے- مزید پڑھیں

طے کردہ ہدف میں سے 3 کروڑ 91 لاکھ بچوں کو ویکسین پلائے جا چکے

معاشرے کے مختلف حصوں کو انسداد پولیو مہم کی کامیابی کا کریڈٹ دیتے ہوئے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق پولیو وررکرز پاکستان بھر میں 4 روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران 3 کروڑ 96 لاکھ بچوں کے طے کردہ ہدف میں سے 3 کروڑ 91 لاکھ بچوں کو ویکسین پلا چکے ہیں جبکہ ابھی بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دور دراز یونین کونسلز کا ڈیٹا شامل کیا جائے گا۔

اینٹی پولیو مہم مطلوبہ مقاصد حاصل کر رہی ہے، وائرس کا خاتمہ یقینی، ڈاکٹر ظفر احمد مرزا

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اجتماعی کوششوں سے پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنایا جائے گا۔ ڈاکٹر ظفرمرزا نے تمام سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ این ای او سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ انسداد پولیو مہم میں اب تک ہونے والی پیشرفت سے انہیں بہت حوصلہ ملا ہے۔ کمیونیٹیز کے ساتھ ہماری مصروفیت اور منفی پروپیگنڈے سے نمٹنے کی کوششوں کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے ذمہ داری سے ویکسین پلارہے ہیں۔

کمیونٹیز کیساتھ منفی پروپیگنڈا سے نمٹنے کی کوششوں کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے، ڈاکٹررانا صفدر

انکا مزید کہنا تھا کیچ اپ انسداد پولیو مہم کراچی، پشاور، خیبر، کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ کے اہم علاقوں میں جاری ہے اور جن بچوں کو قطرے نہیں پلائے گئے انہیں ویکسین دی جائے گی۔ خیال رہے 19 دسمبر کو ملک بھر میں سال کی آخری پولیو مہم دوران ہی پولیو کے مزید 7 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد رواں برس پولیو کا شکار بچوں کی تعداد 111 تک پہنچ گئی تھی۔

Leave a Reply